29 ستمبر 2008 کی شام رمضان کے مہینے میں مالیگاؤں مہاراشٹرا کا بھیکو چوک ایک خوفناک بم دھماکے سے اس وقت لرز اٹھا تھا،جب وہاں کھڑی موٹر سائیکل میں نصب بم نے چھ معصوم لوگوں کو نگل لیا اور 100 سے زائد زخمیوں کو زندگی بھر کا داغ دے گیا، ضلع ناسک سے تقریبا 100 کیلو میٹر دور مالیگاؤں شہر جوپاور لوم انڈسٹری کےلئے مشہورہے،ہیں ایک مصروف چوراہے پر بم دھماکہ ہوا تھا،مسلم اکثریتی علاقے میں شہر کو ہلا دینے والے اس بم دھماکے کی شدت نے صرف انسانی جسموں کو ہی نہیں بلکہ سماج کے شعور کو بھی چیر ڈالا تھا۔لیکن 31 جولائی 2025 کو یعنی 17 سال بعد ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے اس اندوہناک سانحہ کے تمام ساتوں ملزمان کو یہ کہہ کر بری کردیا کہ استغاثہ اور تحقیقاتی ایجنسی ملزمین کے خلاف پختہ ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ہے،اسلئے اس کیس کے سارے ملزمین کو بری کیا جاتاہے،دوسرے لفظوں میں ان پر لگائے گئے الزامات غلط ہیں،خیال رہے کہ اس مقدمے میں شامل ملزمین کوئی عام شہری نہیں تھے بلکہ یہ سیاست،فوج اور مذہبی حلقوں سے جڑے چہرے تھے۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ چہرے قانون سے بالاتر ہیں؟ اگر قانون کا ہاتھ لمبا ہوتا ہے تو پھر یہ ہاتھ ان کی گردنوں سے دور کیوں ہے؟عدالتوں کا کام شواہد اور ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ سنانا ہے اور اگر ثبوت نہیں ہے تو ملزمین کو بری کرنا عدالت کی مجبوری بن جاتی ہے لیکن سوال عدلیہ سے نہیں بلکہ اس نظام سے ہے جو ایسے حساس مقدمات میں شواہد جمع کرنے سے قاصر رہتا ہے۔مالیگاؤں سے متعلق عدالت کے اس فیصلے سے سوالات کے انبار اس کے جوابوں کی راکھ تلے دب چکے ہیں۔مالیگاؤں کا یہ کیس جسے ابتدا میں مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ہیمنت کرکرے کی قیادت میں سنبھالا اور بعد ازاں 2011 میں این آئی اے کے حوالے کیا گیا،ہندو دہشت گردی کی اصطلاح کے تحت قومی سطح پر موضوع بحث بن گیا تھا،اے ٹی ایس نے پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو بم سے جڑی موٹر سائیکل کی ملکیت کے الزام میں گرفتار کیا،جبکہ لفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت پر کشمیر سے آر ڈی ایکس لانے اور منصوبہ سازی میں مرکزی کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا،ان پر یہ بھی الزام تھا کہ ابھینو بھارت نامی تنظیم کے تحت ایک نیا ہندو راشٹر قائم کرنے کی سازش تیار کی گئی تھی لیکن فیصلہ اس قدر صاف گو اور غیر متزلزل آیا گویا یہ سب محض قیاس آرائیاں تھیں،خصوصی جج اے کے لاہوٹی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ دھماکہ جس موٹر سائیکل میں ہوا وہ پرگیہ سنگھ کے قبضے میں تھی،این ائی اے نے خود مانا کہ موٹر سائیکل تقریبا ڈیڑھ سال سے رام چندر کلسا نگرا کے قبضے میں تھی جو تاحال مفرور ہے، کرنل پروہت کے گھر سے آر ڈی ایکس برآمد ہونے کا کوئی ثبوت نہ ملا،جائے وقوعہ سے کوئی فنگر پرنٹس،کال ڈیٹا یا قابل بھروسہ فورنسک شواہد بھی حاصل نہ کیے جا سکے،یو اے پی اے کے مطابق تفتیش کی منظوری میں خامیاں تھیں اور فون ٹائپنگ کی اجازت غیر قانونی قرار دی گئی،عدالت کے مطابق محض شک کی بنیاد پر کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی،یہ بات اصولی کہی جا سکتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ پھر 17 برس تک یہ تماشہ کیوں کر جاری رہا؟ اگر شواہد اتنے کمزور تھے تو ضمانتیں اتنی تاخیر سے کیوں دی گئی؟ اگر موٹر سائیکل کسی اور کے قبضے میں تھی تو اس شخص کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ اگر پرگیہ اور پروہت بے گناہ تھے تو اسکا اصل مجرم کون ہے؟ اور وہ ابھی تک آزاد کیوں ہے؟ ان تمام سوالات کا عدالت نے جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔یہ فیصلہ صرف قانونی نوعیت کا نہیں ہے بلکہ اس کے دور رس سیاسی اور سماجی مضمرات ہیں،پرگیہ سنگھ نےبری ہونے کے فورا بعد اسے ہندوتوا کی جیت قرار دیا، کرنل پروہت نے اپنی تنظیم کےتحت قوم کی خدمت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا،بری ہوجانے والے ملزمین کے یہ بیانات متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے لیے کافی ہے۔نثار بلال جو اپنے 19 سالہ بیٹے اظہر کو حافظ قران بنانے کا خواب دیکھ رہا تھا اور وہ اس حملے کی زد میں جان بحق ہو گئے ان کا کہنا ہے کہ مجھے کبھی سکون نہیں ملے گا،اسی طرح عرفان خان کے چچا عثمان خان نے کہا کہ ہمیں زندہ رہنے کے لیے درد کو دبا دینا پڑا،اس دھماکے میں اپنے رشتے داروں کو کھونے والوں نے عدالت کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے،انکا کہنا تھا کہ 17 سال کے بعد بھی ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہوا،سارے ثبوتوں کو درکنار کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایاگیا،جن خاندانوں نے سپریم کورٹ تک انصاف کی جنگ لڑی انہیں عدالت نے صرف دو لاکھ یا 50 ہزار روپے معاوضے کے نام پر تسلی دینے کی کوشش کی جیسے یہ خونی سانحہ محض ایک ٹریفک حادثہ ہو،فیصلے میں متاثرین کے دکھ ان کے سوالات اور ان کے خوابوں کا کوئی ذکر نہیں ہے،اس فیصلے نے نہ صرف عدالت و قانون پر عوام کے اعتماد کو متزلزل کیا بلکہ انصاف کی دیوی کی انکھوں پر بندھی پٹی کو بھی خون آلود کردیا ہے۔ اس کیس میں پراسیکیویشن کے 323 گواہوں میں سے 37 گواہ اپنے بیانات سے مکر گئے،جو عدالتی عمل کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے،کیا یہ گواہوں کی غیر یقینی کی وجہ سے تھا یا ان پر کوئی دباؤ تھا یہ سوال اپنی جگہ پر موجود ہے،اس فیصلے سے ایک دن پہلے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے راجیہ سبھا میں کانگریس پر بھگوا دہشت گردی کا بیانیہ بنانے کا الزام لگایا تھا اور دعوی کیا کہ ہندو کبھی دہشت گرد نہیں ہوسکتا، شاہ کا یہ بیان نہ صرف سیاسی تھا بلکہ اسے ایک منظم بیانیے کی جیت کے طور پر دیکھا جارہا ہے، ایکس پر پوسٹ کے مطابق بی جے پی نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا اور کانگرس سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا کیونکہ ان کے خیال میں ہندو دہشت گردی کا تصور کانگریس کی ‘مسلمان ووٹ بینک’ کی سیاست کا حصہ تھا،امیت شاہ کا بیان اور عدالت کا فیصلہ ایک ہی دن میں آنا کیا یہ کوئی اتفاق کہا جا سکتا ہے یا یہ ایک منظم منصوبہ بندی کا حصہ لگتا ہے۔شاہ نے نہ صرف کانگریس پر ووٹ بینک کی سیاست کا الزام لگایا بلکہ دعوی کیا کہ بی جے پی نے دہشت گردی کو کنٹرول کیا اور اسلامی تنظیموں کے ذریعے بھرتی کو روک دیا لیکن سوال یہ ہے کہ اگر دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہے جیسا کہ مالیگاؤں دھماکہ معاملے میں عدالت نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا تو پھرشاہ کا یہ بیان کہ ہندو کبھی دہشت گرد نہیں ہوسکتا کا دعوی کس منطق پر مبنی ہے؟ اس کیس کی ایک اہم شخصیت خصوصی پراسکیوٹر روہنی سالیان جنہوں نے 2015 میں سنسنی خیز انکشاف کیا تھا کہ این آئی اے کے ایک سینئر افسر سہاس وار کے نے ان سے ملزمین کے تئیں نرم رویہ اختیار کرنے کو کہا تھا،انہوں نے الزام عائد کیا کہ جب انہوں نے اس سے انکار کیا تو انہیں اس کیس سے ہٹا دیا گیا۔وار کے کو بھی این آئی اے سے ہٹایا گیا،لیکن انہیں دوبارہ اے ٹی ایس میں شامل کرلیا گیا جو ایک عجیب سا انعام لگتا ہے،سالیان کا یہ الزام عدالتی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھاتا ہے کیا واقعی تحقیقات پر سیاسی دباؤ تھا یا یہ محض ایک افسر کی ذاتی رائے تھی؟ اس کا جواب شاید کبھی نہ ملے۔ لیکن یہ کیس عدالتی نظام کی پیچیدگیوں اور سیاسی مداخلت کے امکانات کو پوری طرح عیاں کرتا ہے۔اس سے قبل اپریل 2018 میں اسی طرح کے الزامات کے تحت مکہ مسجد بم دھماکہ کیس میں بھی ابھینو بھارت سے وابستہ ملزمین کو بری کردیا گیا تھا،کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہندوتوا تنظیموں کے لئے بری ہونے کا یہ سلسلہ ایک سنہری دور کی طرح ہے،اس کیس نے ہندو دہشت گردی کے بیانیے کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے، کانگریس قائد دگ وجے سنگھ پر الزام ہے کہ انہوں نے 26/11 ممبئی حملوں کو بھی ہندوتوا تنظیموں سے جوڑنے کی کوشش کی تھی،شاہ نے اسے وہ بینک کی سیاست قرار دیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں فریقین نے اس کیس کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا کانگریس نے بھگوا دہشت گردی کا بیانیہ بنایا تو بی جے پی نے اسے ہندوؤں کی توہین قرار دے کر اپنا ووٹ بینک مضبوط کیا،کیا یہ محض اتفاق ہے کہ دہشت گردی کے مقدمے میں جتنے لوگ شامل تھے وہ سب ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے بری ہو گئے کیا یہ طے شدہ بیانیہ نہیں ہے کہ کسی مذہبی اکثریت سے تعلق رکھنے والا کبھی دہشت گرد نہیں ہو سکتا، بی جے پی اس فیصلے کو اپنے بیانیے کی جیت بتارہی ہے کہ ہندو دہشت گردی کا نظریہ جھوٹا نکلا سوال یہ ہے کہ کیا انصاف کا پیمانہ سیاسی نظریات سے ناپا جائے گا؟ کیا آپ عدالت کے فیصلے کو مذہب کی فتح یا شکست کے طور پر پیش کریں گے؟ تو پھر آگے ملک کے حالات کیا ہونگے؟ اس فیصلے کو بی جے پی حکمران پارٹی بی جے پی نے ہندو دہشت گردی کے بیانیے کی شکست قرار دیا ہے چیف منسٹر اتر پردیش یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی کے دیگر رہنماؤں نے کانگریس پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے سناتن دھرم کو بدنام کرنے کے لئے قوم سے معافی مانگنی چاہیے، یوگی جیسے چیف منسٹر جب سناتن کی جیت کے نام پر فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں تو وہ دراصل عدالت کے غیر جانبدارانہ دائرے کو بہرحال مسخ کرتے ہیں اور اگر فیصلے کو صرف ایک سیاسی ہتھیار بنایا جائے تو یہ عدلیہ کے تقدس کی توہین ہے،مالیگاؤں اور اس جیسے کئی معاملات میں ہر بار ثبوت کمزور کیوں پڑ جاتے ہیں؟ کیا یہ محض اتفاق ہے یا ایک منظم طریقہ کار ہے؟ اگر این آئی اے شواہد پیش کرنے میں ناکام ثابت ہوئی تو اس کی جواب دہی طے ہونی چاہیے کہ آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اور جب یہ ایجنسیاں تحقیقات کرنے میں ناکام ہیں تو پھر انہیں کیوں نہ تحلیل کردیا جائے؟ ملک میں سمجھوتہ ایکسپریس،مکہ مسجد،مالیگاؤں اور اجمیر شریف بم دھماکوں کے ذمہ داروں کے بارے میں عدلیہ کے فیصلے زعفرانی دہشت گردوں کے حق میں آئے ہیں لیکن سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکے کی تحقیقات کرنے والی ایس آئی ٹی کے سربراہ وکاش نارائن رائے،آئی پی ایس نے انکشاف کیا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس سمیت دیگر بم دھماکوں کے لئے ہندو دہشت گرد تنظیمیں ذمہ دار تھی،تحقیقات میں پختہ اور ٹھوس ثبوت حاصل ہوئے تھے،خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ وکاش نارائن رائے جو ہریانہ کے سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس بھی ہیں، ان کا دی وائر کو دیا گیا انٹرویو وائرل ہوا،جس میں انہوں نے بم دھماکوں کے ذمہ دار ہندو تنظیموں کی نشاندہی کی ہے،وکاش نارائن نے بتایا کہ فروری 2007 میں سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکہ ہوا اور ہریانہ کے پانی پت میں یہ واقعہ پیش آیا تو انہیں خصوصی تحقیقاتی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا گیا اور ان کے ساتھ تقریبا سات دیگر عہدے داروں کی ٹیم تحقیقات میں شامل تھی،وکاش نارائن نے کہا کہ ابتدا میں پاکستان اور سیمی کے ملوث ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا جو غلط ثابت ہوا اور ہندو تنظیموں کے ملوث ہونے کا پختہ ثبوت برآمد ہوا،ان کا کہنا ہے کہ اندور کی مقامی پولیس نے تحقیقات میں تعاون نہیں کیا،ایس ائی ٹی کو سنیل جوشی کی زیر قیادت ہندو تنظیم کے ملوث ہونے کا ثبوت ملا اور سنیل جوشی کے دو ساتھیوں کے بارے میں پتہ چلا لیکن آج تک انکے دونوں ساتھی لاپتہ ہیں،عہدے دار کے مطابق سنیل جوشی کا تعلق آر ایس ایس سے تھا اور اس کے قتل کے بعد تحقیقات کے کئی پہلو اجاگر ہوئے،انہوں نے کہا کہ 2007 میں حیدرآباد میں مکہ مسجد اور اجمیر شریف میں بھی بم دھماکے ہوئے، مکہ مسجد میں شبہ کی بنیاد پر جن افراد کو ابتدا میں حراست میں لے کر بنگلور میں نارکوٹسٹ کیا گیا وہ بوگس تھا، وکاش نارائن کے مطابق سی بی آئی بم دھماکوں کی تحقیقات کی نگرانی کررہی تھی، تحقیقاتی ٹیموں کے مشترکہ اجلاس میں بھی یہ ثابت ہوا کہ یہ کارستانی ہندو تنظیموں کی ہے،تحقیقات کے مرحلے میں اسیمانند کا نام بھی منظر عام پر آیا۔ 2008 میں ایس آئی ٹی نے کئی مقامات پر دھاوے کئے،2009 میں دھماکہ کے بعض کیسس سی بی آئی کے حوالے کئے گئے،انہوں نے کہا کہ پاکستانی دہشت گرد تنظیموں کے علاوہ سیمی کے ملوث ہونے کے بارے میں تفصیلی جانچ کی گئی اور 2008 میں مالیگاوں بم دھماکے کی جانچ کرنے والے مہاراشٹر اے ٹی ایس کے سربراہ ہیمنت کرکرے نے ملاقات میں بتایا تھا کہ مالیگاؤں میں دھماکہ کے مقام پر پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی موٹر سائیکل دستیاب ہوئی ہے،ہیمنت کرکرے نے کرنل پروہت اور اسیما نند کے ناموں کا بھی انکشاف کیا تھا، آئندہ 10 تا 15 دنوں میں مزید پختہ ثبوت ملنے کا امکان تھا لیکن چند دن بعد ہی ممبئی دہشت گرد حملے میں وہ شہید ہو گئے،وکاش نارائن نے بتایا کہ 2010 میں تمام بم دھماکوں کی تحقیقات این ائی اے کے سپرد کردی گئی،جس میں سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ بھی شامل ہے،انہوں نے دعوی کیا کہ سمجھوتہ ایکسپریس کی تحقیقات میں ان کی ٹیم نے ہندو گروپ کے ملوث ہونے کا ٹھوس اور پختہ ثبوت جمع کیا تھا،تمام تحقیقات،ثبوت اور شواہد کی بنیاد پر کی گئی تھی،انہوں نے واضح کیا کہ سیمی کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا،وزارت داخلہ کے عہدے داروں کا بھی تاثر تھا کہ بم دھماکہ پاکستان کی کارستانی ہوسکتی ہے،وکاش نارائن نے قومی ٹی وی چینل کی جانب سے ان کے انٹرویو کی ریکارڈنگ کا ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے انٹرویو میں سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے میں ہندو تنظیم کے ملوث ہونے کی بات کہی تھی،رات میں جب انٹرویو ٹیلی کاسٹ کیا گیا تو انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ چینل نے ان کا انٹرویو بلاک کردیا اور تحقیقات میں شامل ایک سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے منسوب کرتے ہوئے سیمی کو ذمہ دار قرار دیا،خاتون عہدے دار کے انٹرویو کے بعض حصوں کو غلط ملط کرتے ہوئے نیوز چینل نے سیمی کو دھماکے کے لئے ذمہ دار بتایا،جس کے بعد وکاش نارائن رائے نے سوشل میڈیا اور مختلف چینلز کو انٹرویو دیتے ہوئے حقائق پیش کئے،ایک سوال کے جواب میں نارائن رائے نے بتایا کہ این آئی اے کو تحقیقات منتقل کئے جانے کے بعد وہ ڈیپو ٹیشن پر ہریانہ سے منتقل ہو گئے اور تحقیقات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں کی،انہوں نے کہا کہ ہیمنت کرکرے ایک قابل اور غیرجانبدار،عہدے دار تھے اور ان کی تحقیق پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ہیمنت کرکرے جنہوں نے اس کیس کی ابتدائی تفتیش کی اور 26/11 کے حملوں میں مارے گئے ان کی موت پر آج بھی سوالات اٹھتے ہیں کیا ان کی تفتیش کسی بڑی سازش کے دروازے کھولنے والی تھی؟ کیا ان کی جان لینے کے پیچھے کوئی خاموش منصوبہ چھپا تھا؟آج جب کہ تمام ملزمین بری ہو چکے ہیں،ان سوالوں کی معنویت اور بھی گہری ہوتی چلی جارہی ہے،اصل دکھ اس بات کا نہیں ہے کہ کون بری ہوا بلکہ اس بات کا ہے کہ 17 سال بعد بھی کوئی یہ بتانے والا نہیں ہے کہ آخر یہ دھماکہ کس نے کیا ؟ اس کا اصل مجرم کون ہے؟ اگر یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہوتا،جب ملک میں سیاسی توازن اور شفافیت کی فضا قائم ہوتی تو شاید منظر کچھ اور ہوتا لیکن جب متاثرین سوال اٹھاتے ہیں کہ پرگیہ کو ایم پی بنایا گیا یہ ہمارے زخموں کا مذاق ہے تو یہ طنز نہیں ایک اجتماعی ماتم کی گونج ہے یہ محض ایک عدالتی فیصلہ نہیں یہ تاریخ کا وہ ورق ہے جس پر خون کے دھبے تو ہیں لیکن جرم کا سراغ ندارد ہے،انصاف جو کبھی مقدس کہلاتا تھا،اب ایک بے حس دیوار بن چکا ہے،جس پر چیخیں ٹکرا کرلوٹ آتی ہے،مالیگاؤں کا فیصلہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ سچ کا گلا گھونٹا جاسکتا ہے،ثبوت مٹائے جا سکتے ہیں اور درد کو سیاسی بیانیے میں بدل دیا جا سکتا ہے لیکن سوال زندہ ہے زندہ رہتے ہیں اور زندہ رہے گا اور کبھی کبھار وہی سوال تاریخ بھی لکھتے ہیں۔بابری مسجد کی شہادت کا ذمہ کوئی نہیں،کشمیر کے پہلگام حملے کا ذمہ دار کوئی نہیں،مکہ مسجد،سمجھوتہ ایکسپریس،مالیگاؤں اور دیگر درجنوں دھماکوں کا ذمہ دار کوئی نہیں پھر آخر یہ دھماکے کرنے والے لوگ کیا آسمان اترے،سوچئے عدالتیں فیصلوں کے نام پر کیسے بٹہ لگارہی ہے،شایدعدالتی رویے کو دیکھ کر ہی شاعر نے کہا ہےکہ
محسوس یہ ہوتاہےکہ دور تباہی ہے
شیشے کی عدالت ہے پتھرکی گواہی ہے۔
تحریر: سرفراز احمد قاسمی، حیدرآباد
رابطہ: 8099695186
(مضمون نگار معروف صحافی اور کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)
sarfarazahmedqasmi@gmail.com