آئی آئی ہے آئی: آزادی
شادمانی ہے لائی آزادی
مدتوں تھے پڑے غلامی میں
سخت مشکل سے پائی آزادی
پندرہ تھی اگست کی تاریخ
جب مقدر میں آئی آزادی
بزرگوں نے ہے خون سےسینچا
تب کہیں لہلہائی آزادی
ہم مناتے ہیں یہ تہ دل سے
فضل رب نے دکھائی آزادی
تھی شب قدر اور دن تھا جمعہ
جس گھڑی مسکرائی آزادی
چیر کر ظلمتیں غلامی کی
ملک میں جگمائی آزادی
ملک ان کو سلام کرتا ہے
"وہ جنہوں نے دلائی آزادی”
دوراجداد میں یہ لگتاتھا
مرحبا ہم نے پائی آزادی
مدتوں تھے پڑے غلامی میں
سخت مشکل سے پائی آزادی
آہ افسوس کہنا پڑتا ہے
لگ رہی ہے پرائی آزادی
اے معظم وطن ہمارا ہے
ہے رگوں میں سمائی آزادی
معظم ارزاں شاہی دوست پوری